Quran College

بِسْمِ ٱللّٰهِ ٱلرَّحْمٰنِ ٱلرَّحِيمِ

Aims and Objectives Quran College Characteristics Rules and Regulations Curriculum Examination System Sponsorshipe & Scholarships for Students Expenses Schedule Hostl Education System Education Times Academic Council

اَغراض و مقاصد:
ادارہ ”کلیة القرآن“ (قرآن کالج) کا مقصدِ اساسی ایسے رجالِ کار اور داعیانِ اسلام کی تیاری ہے جو کمالِ علم کے ساتھ ساتھ تقویٰ‘ للہیت اور اخلاص کے زیور سے آراستہ ہوں اور جن کا مقصدِ وحید دین اسلام کی حفاظت‘ نشرو اشاعت ‘ اقامت اور اُمت مسلمہ کی صراطِ مستقیم کی طرف راہنمائی ہو۔دیگر اہم مقاصد مندرجہ ذیل ہیں۔
علم دین‘ بالخصوص علوم القرآن کی پختہ بنیادوں پر تدریس کے ذریعے نوجوان نسل کو آسمانی ہدایت کے فلسفہ و حکمت سے روشناس کرانا۔
جاہلیت جدیدہ و قدیمہ کی اساسات اور باطل افکار کی علمی بیخ کنی کے لیے فلسفہ اور جدید عمرانی علوم میں خصوصی مہارت پیدا کرنا۔
دوسر ے مدارسِ دینیہ کے ساتھ روابط استوار کر کے علمی‘ تدریسی اور تجرباتی میدان میں ان سے تعاون کرنا۔
نسل نو کو دینِ اسلام سے قریب کر کے دینی اقدار اور اسلامی آداب‘ تہذیب و ثقافت سے ان کا تعلق استوار کرنا۔
عامة المسلمین کی اصلاح و راہنمائی ‘ نیز مختلف قسم کے ملحدانہ افکار و نظریات کی گمراہیوں سے بچا کر ملت بیضا ء کے روشن اصولوں کی جانب راہنمائی کرنا۔

خصوصیات ادارہ کلیة القرآن:
  • تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ اساتذہ و مدرسین
  • قرآنی موضوعات پر خصوصی فکری و عملی رہنمائی
  • تعلیم و تربیت کا بہترین انتظام
  • نظم و نسق اور صفائی کا بہترین معیار
  • طلبہ کی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کے بہترین مواقع
  • علوم اسلامیہ کے ساتھ عصری علوم میٹرک‘ ایف اے ‘ بی اے اور ایم اے تک تیاری
  • خوبصورت عمار ت اور کلاس رومز
  • کمپیوٹر لیب
  • بہترین اور مکمل لائبریری
  • اسلامی اخلاق کی مکمل پابندی
  • رہائش کے لیے بہترین ہوادار اور روشن کمرے
  • خوراک حفظانِ صحت کے اصولوں کے عین مطابق
  • طلبہ کی تدریسی ضروریات پوری کرنے میں معاونت
  • وقت کا موٴثر استعمال
  • تفریح کے مختلف مواقع کی فراہمی

قواعد و ضوابط:
  1. ہر طالب علم کی اہل السنت والجماعت کے مسلک حق سے وابستگی ضروری ہے۔
  2. سوائے عذر شرعی کے ‘ہر طالب علم کے لیے نمازباجماعت کی پابندی ضروری ہے۔
  3. ہر طالب علم کے لیے تمام اساتذہ کا انتہائی احترام اور ان سے دلی وابستگی ضروری ہے۔
  4. ہر طالب علم کو اخلاق و اعمال‘ صورت و سیرت اور وضع قطع میں صلحاءِ اُمت کی اتباع ضروری ہے۔
  5. ہر طالب علم کو اپنی شکایات کے ازالے کے لیے انتظامیہ اور اساتذہ سے رجوع کرنا لازمی ہو گا۔ قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں ہو گی۔مطالعہ اور تکرار میں کوتاہی کی صورت میں زبانی تنبیہہ کے بعد بھی باز نہ آنے کی صورت میں سزا دی جائے گی۔
  6. ادارہ چونکہ ضرورت مند طلبہ کی تمام ترضروریات کی کفالت کرتا ہے اس لیے ادارہ سے باہر کسی ذرائع آمدن کی جستجو نہ کی جائے۔ بصورتِ دیگر مذکورہ طالب علم ادارہ کی امداد اور دار الاقامہ کی سکونت کا مستحق نہیں ہو گا۔
  7. دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کے لیے عصر و مغرب کے درمیانی وقت کے علاوہ دیگر اوقات میں ادارہ سے باہر جانے کے لیے ناظم دار الاقامہ کی اجازت ضروری ہوگی۔ مذکورہ بالا وقت کے علاوہ بقیہ تمام اوقات میں ادارہ میں موجودگی لازمی ہے‘ غیرحاضری مستوجب سزا ہوگی۔
  8. دار الاقامہ میں ناظم دارالاقامہ کی اجازت کے بغیر کسی مہمان کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ملاقاتیوں کو عصر و مغرب کے درمیان یا ہفتہ وار تعطیل کے دن ملاقات کی اجازت ہوگی۔
  9. ہر طالب علم کو صفائی کاخاص خیال رکھنا ہو گا ۔ طالب علم اپنے کمرے کی صفائی اور اس میں اپنے سامان کو قرینہ وسلیقہ سے رکھنے کا ذمہ دار ہو گا۔
  10. ادارہ کے سربراہ‘ اساتذہ اور انتظامیہ کی ہدایات و احکام کی تعمیل اور ادارہ کے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی ضروری ہے۔
  11. جو طلبہ سیروتفریح‘ دوست و احباب کی ملاقاتوں اور غیر ضروری مہمان نوازی میں اپنا وقت ضائع کریں گے‘ تنبیہ کے بعد باز نہ آنے پر ادارہ سے خارج کر دیے جائیں گے۔
  12. کلاس سے غیر حاضری جرم ہے ۔ایسی شدید ضرورت میں جو کلاس چھوڑے بغیر نہ پوری کی جا سکے خود چھٹی کی درخواست ادارے کے دفتر کو دینا ضروری ہے‘ فون پر اطلاع یا کسی کے ہاتھ درخواست بھیجنا ہرگز کافی نہ ہو گا ۔اسی طرح بیماری کی درخواست اسباق میں شرکت ناممکن یا زیادتی مرض کا موجب ہونے کی وجہ سے قبول کی جائے گی۔ دار الاقامہ میں مقیم طلبہ کی درخواست پر ناظم دار الاقامہ کے دستخط اور بیرونی طلبہ (day-scholars)کی درخواست پر ان کے سرپرست اور پھر کلاس کے نگران استاد کے دستخط لازمی ہوں گے۔
  13. مذکورہ بالا قواعد و ضوابط کی تعمیل نہ کرنے پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی جو کہ دار الاقامہ اور ادارہ سے اخراج پر منتج ہو سکتی ہے۔
  14. دوران سیشن چھوڑنے والے طلبہ کو گزشتہ عرصہ کے تمام اخراجات (از قسم قیام و طعام و ٹیوشن) اداکرنے پڑیں گے‘ چاہے وہ خود ادا کرے یا اس کا سرپرست۔

نصابِ تعلیم:
درجہ اولیٰ:
تجوید جمال القرآن مع مشق
فقہ مالا بد منہ
تاریخ/اضافی مضمونتاریخ اسلام
صرفتدریب الصرف‘ صرف میر‘ میزان الصرف
نحونحو میر و شرح مائة عامل
عربی قراء ةالطریقة العصریة
علاوہ ازیں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کا مجوزہ نصاب برائے نویں کلاس آرٹس گروپ۔

درجہ ثانیہ:
تفسیر پارہ عم اجراء قواعد نحو و صرف
حدیث زاد الطالبین
تجویدفوائد مکیہ مع مشق
فقہمختصر القدوری
ادب عربیالقراء ة الراشدہ مع معلم الانشاء جلد اوّل
نحوہدایة النحو وتسہیل الادب
صرفعلم الصیغہ وخصوصیات ابواب از فصول اکبری
منطقتیسیر المنطق‘ ایسا غوجی و مرقات
علاوہ ازیں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کا مجوزہ نصاب برائے دسویں کلاس آرٹس گروپ۔

درجہ ثالثہ:
تفسیر سورة العنکبوت تا آخر پارہ ۲۹
فقہ کنز الدقائق از ابتداء تا آخر کتاب الشرکة
اصول الفقہاصول الشاشی
نحوشرح ابن عقیل حصہ اول و دوم
منطقشرح التہذیب از ابتداء تا بحث ضابطہ
ادب عربینفخة العرب ومعلم الانشاء حصہ دوم
تجویدالمقدمة الجزریة مع مشق
علاوہ ازیں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کا مجوزہ نصاب برائے ایف اے سال اوّل۔

درجہ رابعہ:
تفسیر از سورة یونس تا آخر سورة القصص
فقہ شرح الوقایہ‘ اخیرین
اصول الفقہنور الانوار از ابتداء تا آخر بحث الاجماع
نحوشرح ملا جامی از ابتداء تا اختتام بحث معرب
منطققطبی
ادب عربیالمقامات الحریریة ابتدائی دس مقالے مع معلم الانشاء حصہ سوم
بلاغتدروس البلاغة
علاوہ ازیں بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور کا مجوزہ نصاب برائے ایف اے سال دوم۔

درجہ خامسہ:
تفسیر از ابتداء تا آخر سورة التوبة
حدیث آثار السنن
فقہ الہدایہ (اوّل)۔
اصول الفقہمنتخب الحسامی
ادب عربیدیوان متنبی (قافیة الدال تک)۔
بلاغتمختصر المعانی
منطقسُلَّم العلوم (بحث تصورات مکمل)۔
علاوہ ازیں یونیورسٹی آف پنجاب لاہور کا مجوزہ نصاب برائے بی اے سالِ اوّل۔

درجہ سادسہ:
تفسیر جلالین مکمل
اصول تفسیر الفوز الکبیر فی اصول التفسیر
حدیث مسند الامام الاعظم
اصول حدیث خیر الاصول
فقہ الہدایہ (ثانی)۔
اصول الفقہالتوضیح والتلویح
عقائدالعقیدة الطحاویة ۔ شرح العقائد النسفیہ
ادب عربیدیوان الحماسہ از ابتداء تا آخر باب الحماسہ
علم العروضمتن الکافی مکمل
علم الفرائضالسراجی فی المیراث
علاوہ ازیں یونیورسٹی آف پنجاب لاہور کا نصاب مقرر کردہ برائے بی اے سال دوم۔

درجہ سابعہ:
تفسیر بیضاوی (ربع اول از پارہ اول)۔
حدیث مشکوٰة المصابیح مکمل
اصول حدیث شرح نخبة الفکر و تدریب الراوی
فقہ ہدایہ ثالث و رابع
علاوہ ازیں ایم اے اسلامیات/عربی سال اوّل کے امتحان کی تیاری میں مکمل رہنمائی دی جائے گی۔

درجہ ثامنہ:
حدیث صحیح البخاری
" " " صحیح مسلم
" " " جامع الترمذی
" " " سنن ابی داؤد
" " " سنن النسائی
" " " سنن ابن ماجہ
" " " شرح معانی الآثار
" " " موٴطا امام مالک
" " " موٴطا امام محمد
علاوہ ازیں ایم اے اسلامیات/عربی سال دوم کے امتحان کی تیاری میں مکمل رہنمائی دی جائے گی۔

نظامِ امتحانات:
ادارہ کے تمام تعلیمی شعبوں میں دوران سال تین امتحانات لیے جائیں گے جن کی تفصیل درج ذیل ہے :
  1. سہ ماہی امتحان صفر المظفر کے پہلے ہفتے میں۔
  2. ششماہی امتحان جمادی الاولیٰ کے پہلے ہفتے میں۔
  3. سالانہ امتحان شعبان کے پہلے ہفتے میں۔
مذکورہ بالا تینوں امتحانات کے انعقاد سے قبل نظام الاوقات کا اعلان کیا جائے گا جبکہ تحریری امتحان کا دورانیہ دس دن کا ہو گا۔

طریقہ امتحانات:
عام طور پر تمام امتحانات تحریری ہوں گے‘ البتہ بعض مضامین کا امتحان شفوی/زبانی لیا جائے گا۔ تحریری امتحانات میں عموماًہر پرچے کا دورانیہ تین گھنٹے کا ہوگا۔ پرچہ شروع ہونے سے پندرہ منٹ قبل بیل بجائی جائے گی اور طلبہ امتحان ہال میں داخل ہو کر اپنے اپنے رول نمبرز کی ترتیب سے بیٹھنا شروع ہو جائیں گے۔ پندرہ منٹ بعد دوبارہ بیل بجائی جائے گی اور سوالیہ پرچہ تقسیم کر کے طلبہ اساتذہ کی نگرانی میں پرچہ حل کرنا شروع کر دیں گے۔
امتحان شروع ہونے کے ایک گھنٹہ بعد طالب علم پرچہ جمع کرا کے جا سکتا ہے‘ اس سے پہلے چاہے کسی نے پرچہ حل بھی کیا ہو وہ امتحانی ہال سے باہر نہیں جا سکتا۔
جن درجات کاامتحان وفاق المدارس العربیہ اور لاہور بورڈ کے تحت ہوتا ہے ان کا سالانہ امتحان وفاق اور لاہور بورڈ کے نظام و ترتیب کے مطابق ہو گا۔
کامیابی کے درجات:
ہر مضمون کے سو نمبر میں40 فیصد نمبر حاصل کرنا ضروری ہے ‘جبکہ کامیاب طلبہ کے درجات کا معیار حسب ذیل ہو گا:
ممتاز 90%
جید جداً 60%
جید 50%
مقبول 40%
اس سے کم نمبر لینے والا طالب علم فیل شمار ہوگا۔

طلبہ کی کفالت اور وظائف:
ضرورت مند طلبہ کوادارہ میں تعلیم مفت دی جائے گی ۔ البتہ جو طلبہ ضرورت مند نہ ہوں اُن سے فیس وصول کی جائے گی‘ جبکہ نصابی کتب طلبہ کو عاریتاً دی جائیں گی۔ مستحق طلبہ کو وظیفہ‘ کھانا‘ علاج اور دیگر ضروریات بھی مہیا کی جائیں گی

جدول اخراجات:
وہ طلبہ جن کے والدین /سرپرست فیس دینے کی استطاعت رکھتے ہیں اُن سے مندرجہ ذیل جدول کے مطابق فیس وصول کی جائے گی۔
1. ماہانہ فیس برائے کلیة القرآن Rs. 600/-
2. ماہانہ خرچہ برائے دارالاقامہ (بشمول اخراجات طعام)۔ Rs. 2000/-

دار الاقامہ:
ادارہ میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی اور اخلاقی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جائے گی جس کے لیے ضروری ہے کہ طلبہ چوبیس گھنٹے ادارہ کے ماحول میں گزاریں۔ اس مقصد کے لیے دارالاقامہ کا انتظام کیا گیا ہے جس میں طلبہ کی رہائش کے لیے ضروری سہولیات پانی‘ بجلی‘گیس کے چولہے‘ گیزر اور ٹھنڈے پانی کے کولر‘ مطبخ اور مطعم کا انتظام ہو گا۔ علاوہ ازیں مختلف تربیتی پروگرام ترتیب دیے جائیں گے جن میں طلبہ کی خفیہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کا انتظام ہو گا۔
فن خطابت:
درس نظامی پڑھنے والے طلبہ کے لیے یہ انتظام کیا جائے گا کہ جمعرات کے دن شام کو غیر درسی اوقات میں مختلف مجالس میں بیٹھ کر فنِ خطابت کی مشق کریں تاکہ آئندہ عملی میدان میں خطاب و بیان کے ذریعے وہ عوام کو دینی تعلیمات سے روشناس کرا سکیں۔ اس کے لیے باقاعدہ ایک نظام ہو گا اور ہر کلاس کے لیے نگران مقرر کیا جائے گا۔
سال کے آخر میں ہر کلاس کی سطح پر اساتذہ کرام کی نگرانی میں تقریری مقابلہ ہو گا جس میں اوّل‘ دوم‘ سوم آنے والے طلبہ کو خصوصی انعام بھی دیا جائے گا۔

نظامِ تعلیم:
داخلہ کے سلسلے میں ایک لازمی اصول یہ ہے کہ ادارے میں ایسے طلبہ کو داخلہ دیا جائے گاجو دینی مزاج اور مطلوبہ علمی استعداد رکھتے ہوں ‘اس لیے داخلہ کے لیے امتحان داخلہ لازمی شرط ہے۔
ادارے کے تعلیمی سال کا آغاز شوال المکرم کے پہلے عشرے میں ہوگا ۔ وسط شعبان تک نئے داخلوں کی تاریخ‘ تفصیل اور طریقہ کار کا اعلان کر دیا جائے گا۔داخلے شوال کے تیسرے ہفتہ تک جاری رہیں گے۔
کسی بھی درجے میں داخلہ لینے کا خواہش مند طالب علم سابقہ درجے کے کوائف بالخصوص کسی بھی وفاق المدارس کی سندات اور کشف الحضور پیش کرنے کا پابند ہو گا۔
طلبہ کی تربیت پر ادارہ میں خصوصی توجہ دی جائے گی ‘اس لیے ہر طالب علم کے لیے درج ذیل قواعد و ضوابط کی پابندی ضروری ہوگی:
بنیادی طور پر یہ ضروری ہے کہ طالب علم صحیح العقیدہ مسلمان ہو۔ اتباع سنت اور اسلاف کاطرزِ فکر و عمل اس کا شیوہ ہو۔
درجاتِ کتب میں داخلہ کے لیے طالب علم کی عمر کم از کم تیرہ سال ہونی چاہیے۔
درجہٴ اولیٰ میں داخلہ کے لیے دینی مدارس کے طلبہ کے لیے درجہ متوسطہ جبکہ درجہ ثانیہ کے لیے درجہ اولیٰ پاس ہونا لازمی ہے۔ نیز مڈل پاس طلبہ کو سکول سے حاصل شدہ سر“ٹیفکیٹ کی بنیاد پر درجہ اولیٰ کے لیے امتحان داخلہ میں شامل کیا جائے گا۔
آمد و رفت کے اخراجات کا طالب علم خود ذمہ دار ہو گا ‘البتہ مستحق طلبہ کو داخلہ کے بعد تعلیم‘ کتب ‘ علاج‘ کھانے پینے اور ادارہ کے اندر رہائش کی سہولتیں مفت مہیا کی جائیں گی۔
مطلوبہ درجہ میں داخلے کے خواہش مند طلبہ کا مختصر تحریری اور بعد ازاں تقریری (زبانی)امتحان لیا جائے گا۔ اور دونوں امتحانوں میں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علم کو دفتری کارروائی کے بعدداخلہ دے دیا جائے گا۔

اوقاتِ تعلیم:
صبح 7 بجے تا4 بجے سہ پہرتعلیم جاری رہے گی۔ درمیان میں کھانے‘ آرام اور نماز کا وقفہ ہو گا۔ علاوہ ازیں مغرب سے لے کر رات کے ساڑھے دس بجے تک اساتذہ کی نگرانی میں تکرار و مطالعہ کا انتظام ہو گا۔
تعلیمی دورانیہ اور تعطیلات:
ادارہ میں تعلیمی دورانیہ تقریباً دس ماہ پر مشتمل ہو گا جو نصف شوال سے اوائل شعبان تک ہو گا ۔سالانہ تعطیلات دو ماہ ہوں گی۔ عید الاضحی کے موقع پر دس دن کی تعطیلات اور ہفتہ وار تعطیل بروز جمعہ ہوگی۔
نظم و نسق:
نظم و نسق کے جملہ امور تمام اساتذہ کرام کے باہمی مشورہ سے انجام پائیں گے۔

مجلسِ تعلیمی:
ادارہ کلیة القرآن کی ایک مجلس تعلیمی ہو گی جو تجربہ کار اساتذہ پر مشتمل ہو گی جن کا کام ادارہ کے نصاب تعلیم میں مفید اصلاحات‘ امتحانات کا انتظام اور دیگر تعلیمی امور کی نگرانی کرنا ہو گا۔
اس مجلس تعلیمی کے اراکین کے اسماءِ گرامی درج ذیل ہیں:
1.محترم ڈاکٹر ابصار احمد ‘ سرپرست ِاعلی
2.محترم حافظ عاکف سعید‘ سرپرست
3.محترم حافظ عاطف وحید ‘ ناظم اعلیٰ
4.محترم مولانا احسان اللہ‘نائب ناظم
5.محترم حافظ نذیر احمد ہاشمی‘استاد/ناظم مطبخ
6.محترم مولانا شفیع اللہ‘ استاد/ناظم تربیت
7.قاری یحییٰ اشرف عبدالغفار‘ استاد
8.محترم حافظ محمد زبیر ‘استاد
9.محترم محمد رشید ارشد‘استاد
10.محترم مسعود اقبال ‘ استاد/ناظم امور انتظامی
11. محترم محمد فواد‘ استاد
12.محترم ندیم سہیل ‘استاد
13.محترم ذیشان دانش خان‘استاد/مشرف مسکن
14.محترم آصف علی‘ استاد
15.محترم عاطف عماد‘ استاد